مکتوبات

نوشتہ (۷۴)

(٧٤) وَ مِنْ حِلْفٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ

نوشتہ (۷۴)

كَتَبَهٗ بَیْنَ رَبِیْعَةَ وَ الْیَمَنِ، وَ نُقِلَ مِنْ خَطِّ هِشَامِ بْنِ الْكَلْبِىِّ:

جو حضرتؑ نے قبیلہ ربیعہ اور اہل یمن کے مابین بطور معاہدہ تحریر فرمایا۔ (اسے ہشام ابن سائب کلبی کی تحریر سے نقل کیا گیا ہے)۔

هٰذَا مَا اجْتَمَعَ عَلَیْهِ اَهْلُ الْیَمَنِ، حَاضِرُهَا وَ بَادِیْهَا، وَ رَبِیْعَةُ، حَاضِرُهَا وَ بَادِیْهَا، اَنَّهُمْ عَلٰى كِتَابِ اللّٰهِ یَدْعُوْنَ اِلَیْهِ، وَ یَاْمُرُوْنَ بِهٖ، وَ یُجِیْبُوْنَ مَنْ‏ دَعَا اِلَیْهِ وَ اَمَرَ بِهٖ، لَا یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا، وَ لَا یَرْضَوْنَ بِهٖ بَدَلًا، وَ اَنَّهُمْ یَدٌ وَّاحِدَةٌ عَلٰى مَنْ خَالَفَ ذٰلِكَ وَ تَرَكَهٗ، اَنْصَارٌۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ، دَعْوَتُهُمْ وَاحِدَةٌ، لَا یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ لِمَعْتَبَةِ عَاتِبٍ، وَ لَا لِغَضَبِ غَاضِبٍ، وَ لَا لِاسْتِذْلَالِ قَوْمٍ قَوْمًا، وَ لَا لِمَسَبَّةِ قَوْمٍ قَوْمًا، عَلٰى ذٰلِكَ شَاهِدُهُمْ وَ غَآئِبُهُمْ، سَفِیْهُهُمْ وَ عَالِمُهُمْ، وَ حَلِیْمُهُمْ وَ جَاهِلُهُمْ. ثُمَّ اِنَّ عَلَیْهِمْ بِذٰلِكَ عَهْدَ اللّٰهِ وَ مِیْثَاقَهٗ، اِنَّ عَهْدَ اللّٰهِ كَانَ مَسْؤٗلًا.

یہ ہے وہ عہد جس پر اہل یمن نے، وہ شہری ہوں یا دیہاتی اور قبیلہ ربیعہ نے، وہ شہر میں آباد ہوں یا بادیہ نشین اتفاق کیا ہے کہ وہ سب کے سب کتاب اللہ پر ثابت قدم رہیں گے، اسی کی طرف دعوت دیں گے، اسی کے ساتھ حکم دیں گے، اور جو اس کی طرف دعوت دے گا اور اس کی رو سے حکم دے گا اس کی آواز پر لبیک کہیں گے۔ نہ اس کے عوض کوئی فائدہ چاہیں گے اور نہ اس کے کسی بدل پر راضی ہوں گے، اور جو کتاب اللہ کے خلاف چلے گا اور اسے چھوڑ دے گا اس کے مقابلہ میں متحد ہو کر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں گے، ان کی آواز ایک ہو گی اور وہ کسی سرزنش کرنے والے کی سرزنش کی وجہ سے، کسی غصہ کرنے والے کے غصہ کی وجہ سے اور ایک گروہ کے دوسرے گروہ کو ذلیل کرنے کی وجہ سے، اور ایک جماعت کے دوسری جماعت کو گالی دینے سے اس عہد کو نہیں توڑیں گے، بلکہ حاضر یا غیر حاضر، کم عقل، عالم، بردبار، جاہل، سب اس کے پابند رہیں گے۔پھر اس عہد کی وجہ سے ان پر اللہ کا عہد و پیمان بھی لازم ہو گیا ہے اور اللہ کا عہد پوچھا جائے گا۔

كَتَبَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍؑ.

کاتب سطور: علی ابن ابی طالبؑ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button